جنید بغدادی
صوفی سنت
تریخ پیدائش830 عیسوی اندازاً
بغداد
تریخ وفات910 عیسوی اندازاً
بغداد
قابل احتراماسلام

سید الطائفہ جنید بغدادی صوفیائے کرام دے سربراہ تے اس میدان دے شاہسواراں وچ شامل نیں۔

جنید بغدادی (فارسی: جنید بغدادی‎) مڈھلے فارسی [۱][۲] مسلمان صوفی سنتاں وچوں اک سی اتے کئی صوفی سلسلےآں دی سنہری زنجیر دی مرکزی کڑی نیں۔ جنید اپنی ساری روحانی عمر دوران بغداد وچّ پڑھاؤندے رہے اتے مرکزی صوفی اصول تیار کرن وچّ آپ دا اہم رول سی۔ اس توں پہلاں بصرہ دے حسن وانگ اوہدے طالب علم اتے شاگرد اسنوں بہت پیار کردے سن۔ دوجے سنت لوک اوہدا حوالہ دندے سن۔ صوفی متّ وچّ اوہدی اہمیت کر کے، جنید نوں بہت واری "سلطان" کیہا جاندا سی۔[۳]

ولادت

سودھو

جنیدی بغدادی کی ولادت تیسری صدی ہجری کے اوائل میں عراق کے عروس البلاد شہر بغداد میں ہوئی۔ ارباب سیرو تاریخ نے آپ کے سال ولادت کے بارے میں اختلاف کیا ہے بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ آپ کی ولادت 210ھ تا 220ھ کے درمیان ہوئی۔جیسا کہ امام ذہبی کہتے ہیں: "صوفیائے کرام کےشیخ ہیں، آپکی پیدائش 220ھ کے کچھ ہی بعد ہوئی،[۴]

نام نسب

سودھو

جنید بن محمد بن جنید ہے، ابو القاسم آپکی کنیت ہے، اور پارچہ فروشی کے باعث آپکا لقب : "خزاز " تھا، آپکے والد شیشے کا روبار کرتے تھےاس نسبت سے آپ کو قواریری بھی کہا جاتا ہے ، آپکا آبائی علاقہ نہاوند ہے، لیکن آپکی پیدائش و پرورش بغداد میں ہوئی۔

خطابات و القاب

سودھو

آپ کے خطابات و القابات میں لسان القوم ’’طاؤس العلماء، سلطان المحققین’’عمدۃ المشائخ‘‘ ’’ماہر شریعت‘‘’’ چشمۂ انوار الٰہی‘‘ اور ’’منبع فیوض لا متناہی‘‘ تھےشامل تھے،

تعلیم تصوف

سودھو

مشہور و معروف صوفی ہیں سری سقطی کے بھانجے،مرید اور شاگرد تھے۔ خطیب بغدادی کہتے ہیں: "انہوں نے بغداد میں رہتے ہوئے سماعِ حدیث کیا، علمائے کرام سے ملاقاتیں کی، ابو ثور سے فقہ پڑھی، متعدد نیک لوگوں کی صحبت اختیار کی جن میں حارث محاسبی، اور سری سقطی شامل ہیں۔ اس کے بعد عبادت گزاری میں مشغول ہوگئے، اور اسی کو اپنا مشغلہ بنا لیا، اور بہت شہرت پائی، یہاں تک کہ علم الاحوال اور وعظ کیلئے اپنے وقت کے یگانہ روزگارشیخ بن گئے۔ آپکے واقعات بہت مشہور ہیں، انہوں نے حدیث حسن بن عرفہ کے واسطے سے بیان کی "[۵]

اہل علم کی رائے

سودھو

اہل علم نے جنید بغدادی کے بارے میں اچھے الفاظ استعمال کیے ہیں: حافظ ابو نعیم کہتے ہیں: "جنید ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے شرعی علم کو مضبوط بنایا" [۶] ابن تیمیہ کہتے ہیں: "جنید بغدادی کتاب و سنت کے شیدائی تھے آپ اہل معرفت میں سے ہیں" [۷] حافظ ذہبی کہتے ہیں: "آپ اپنے زمانے کے شیخ العارفین، اور صوفیاء کیلئے نمونہ تھے، اپنے وقت کے نامور ولی تھے، اللہ تعالی کی آپ پر رحمتیں نازل ہوں۔[۸]

وصال

سودھو

جس وقت ان کی موت کا وقت آیا تو قرآن مجید کی تلاوت کرنے لگے، تو انہیں کسی نے کہا: آپ تھوڑا آرام کر لیتے!، تو انہوں نے کہا: "اس وقت مجھ سے بڑھ کر کسی کو قرآن کی ضرورت نہیں ہے، یہ وہ لمحہ ہے جس لمحے میں میرا صحیفہ بند کر دیا جائے گا"[۹] آپ کا وصال بکمال 27رجب بروز جمعہ 297ھ 910ء میں ہوا،آپ کی نمازِ جنازہ آپ کے فرزندقاسم جنیدی نے پڑھائی۔جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔

حوالے

سودھو
  1. S.H. Nasr, "Iran" in History of Humanity: From the Seventh to the Sixteenth Century, edited by Sigfried J. de Laet, M. A. Al-Bakhit, International Commission for a History of the Scientific and Cultural Development of Mankind History of mankind, L. Bazin, S. M. Cissco. Published by Taylor & Francis US, 2000. pg 368.
  2. Edward Granville Browne, "A Literary History of Persia", Published by Iranbooks, 1997. Originally published: 1902. excerpt 428:"It is noteworthy that both Bayazid and Junaid were Persians, and may very likely have imported to sufism.
  3. Concise Encyclopedia of Islam, C. Glasse, al-Junayd (pg. 211), Suhail Academy co.
  4. "سير أعلام النبلاء" 11/ 43
  5. "تاريخ بغداد" 8/ 168
  6. "حلیۃ الأولياء" 13/ 281
  7. مجموع الفتاوى"5/ 126
  8. "تاريخ الإسلام" 22/ 72
  9. "البدایہ والنهایہ" 14/ 768